تخیل اور تفکر، یہ دونوں ذہنی محنت کا مظہر ہے جہاں انسان فطرت اور اس عوامل کے ردعمل میں اپنی سوچ کو متحرک کرتا ہے اور خیالات کو منزل بخشتا ہے، لیکن یہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں۔
تخیل؛ اصل میں یہ خیالات کو تخلیق کی منازل طے کرنے کا نام ہے، وہ تخلیق کبھی حقیقی، غیر حقیقی اور سریئل Surreal بھی ہوتی ہے۔
تفکر؛ یہ ایک اعلیٰ ذہنی سوچ ہے جو کہ خیالات کو حقیقی تخلیق کی اعلیٰ معراج کی طرف لے جاتی ہیں، یہ نج حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔
کبھی کسی شاعر، مصور، موسیقار، افسانہ نگار کے پاس کوئی سوچ عمل میں آئے اور وہ شاعری، موسیقی، آرٹ، افسانہ کی شکل اختیار کرے تو وہ تخیل کہلائے گی، جبکہ اگر کوئی اپنی سوچ کو فکری، عقلی، منطقی بنیادوں پر اس کو ایک فکر کا راستہ دے کر حقیقت کا مظہر بنالے تو وہ تفکر ہے۔
کچھ حالات میں شاعری، موسیقی، مصوری یا کوئی بھی افسانہ نگاری، حقیقت اور عدم حقیقت کا حسین امتزاج ہوتی ہیں مگر پھر بھی وہ پوری حقیقت نہیں کہلواتی۔
تخلیق کار کو بنیادی طور پر مفکر تخلیق کار ہونا چاہیے، جیسے: ہومر، سقراط، افلاطون اور ارسطو سے لے کر مارکس، اینگلس اور شاہ لطیف، شیخ ایاز تک، جیسے نبض شناس تخلیق کار جنہوں نے تاریخی تفکر کو تخیل کا روح بنا دیا۔
تاریخ ہمیشہ اس تخلیق کار کو یاد کرتی ہے جس کو تخیل اور تفکر کو ساتھ ساتھ بخوبی نبھانے کا ہنر ہو ، ایسے دوچار اشعار، تین چار غیر منطقی خیالات لکھ کر خود کو سماجی چین سے الگ کر دینے کا نام تخلیق کار نہیں، تخلیق کار اپنے تفکر کے ساتھ عملی طور جدوجہد کے میدان پر منطق اور عقل کے ساتھ جنگ لڑے تو یقیناً سرخرو ہوگا۔
It's Aaalaw😊
ReplyDelete