جب سے فطرت کو انسانی سوچ نے اپنا مرکز بنایا تو انسانی شعور کا حسن فطرت کو ملنا شروع ہوا، اس طرح انسانی شعور نے کائنات اور فطرت کو بامقصد و معنی بنا دیا۔
لیٹریچر سماج کی پیداوار ہے اور سماج لینگویج کی پیداوار ہے۔
لٹریچر ایک تمام بڑی سماجی، قومی اور اجتماعی زمیداری ہے۔
ھومر، سقراط، افلاطون سے کبیر، تلسی، رومی، خیام، لطیف، سچل، کانٹ، ھیگل، مارکس، اینگلز، لینن، مائو،سارتر، ھائیڈیگر اور فیض تک، ایک تاریخی مسند ہے، جس کو بہت ذمیواری کے ساتھ سنبھالنا ہے۔
لٹریچر کبھی بھی ذاتی لسٹ اور شہرت کمانے کا نام نہیں۔
تاریخ، انسانی شعور کے سفر کا نام ہے، فرد اور سماج کے مکینیزم کا نام ہے جوکہ مسلسل نسل در نسل ٹرانسمٹ ہورہی ہے۔
دراصل سماج ہی لٹریچر کا باپ ہے
اور لینگویج سماج کی ماں ہے
اس طرح لینگویج، لٹریچر کی دادی اور لٹریچر سماج کا بیٹا ہوا۔
کیونکہ اگر لینگویج نہ ہوتی تو سماج نہیں بنتا
اور سماج نہ بنتا تو لٹریچر نہ ہوتا
لٹریچر سماج کی پیداوار ہے، اس لیے یہ ایک دوسرے کی نشونما کرتے رہتے ہیں۔
لٹریچر سماج میں Infrastructural evolution کے تحت ارتقائی مراحل میں گزر کے cultural evolution میں بڑا کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور اس طرح وہ لٹریچر سماجی ارتقا کی تخلیقی عکاسی کرتا ہے۔
لٹریچر زندگی میں زندگی تلاش کرتا ہے۔
لٹریچر انسانی سماج اور انسانی شعور سے وابستہ ہے، اور انسان کے احساسات اور جذبات کو جذب کر کے اپنے اندر محفوظ کرتا ہے۔
No comments:
Post a Comment